کس نے کہا عربی بولنے سے ہم "uncool" ہو جائیں گے؟
سوزان تلحوق نے اس تقریر میں ایسےابتدائی اقدامات کا مطالبہ کیا جوعربی زبان کو طرزِ جدید پر لا کر اور تخلیقی اظہار کا ایک ذریعہ کے طور پر اس کا استعمال کرتے ہوئے اس کوبحال کر سکیں۔
ان کے کام کا مقصد عربی گو دنیا کی کھوئی ہوئی شناخت کو واپس دلانا ہے اور اس احساسِ کمتری سے چھٹکارا حاصل کرنا ہے۔
