ایک نوجوان موجد کا سٹائرو فوم کو دوبارہ استعمال کرنے کا منصوبہ
مونگ پھلی کے پیکٹ سے لے کر کافی کی پیالی تک ہر سال صرف امریکہ میں دو ارب پاؤنڈ سٹائرو فوم بنتا ہے۔جس میں سے کوئی بھی دوبارہ استعمال نہیں ہوسکتا۔ وسائل اور جگہ کے ضائع ہونے پر شدید فکر مند، ایشٹن کوفر اور انکے ساتھیوں نے ایک حل تلاش کیا جس میں گرمائش کے استعمال سے استعمال شدہ سٹائرو فوم کو توڑ کر پھر ایک کارآمد چیز میں بدلا جا سکتا ہے۔ انکا اصلی منصوبہ جانئے جس کو گوگل سائنسی میلے کی طرف سے 'فرسٹ لیگو لیگ گلوبل انووینشن' اور 'سائنسی امریکن تخلیق کار' انعام دیے گئے۔

